گوجرانوالہ نیوز
خواتین کارنر
زیادہ بچے پیدا کر نےکے فوائد
نیویارک ( نیوزڈیسک) والدین بننا صرف ذہنی خوشی کا باعث ہی نہیں بنتا بلکہ یہ مرد وخواتین کو زیادہ محنتی اور فائدہ مند کام کرنے والا بھی بنادیتا ہے یہ دعویٰ ایک نئی امریکی تحقیق میں سامنے آیا ہے تحقیق کے مطابق ایک یا اس سے زائد بچے کسی کو بھی اپنے کیرئر میں سخت محنت اور بہتر کام کی حوصلہ افزائی کا سبب بنتے ہیں اسی طرح 2بچوں کو مائیں اپنے کام بہترین انداز میں کرتی ہیں امریکی فیڈرل ریزروبینک کی تحقیق کے مطابق ایک بچے کا باپ بننے کے بعد مرد حضرات اپنے کنوارے ساتھیوں جتنی کارکردگی ہی دکھاتے ہیں تاہم یہ تعاد بڑھتے ہی ان کی محنت نمایاں ہوجاتی ہے اور وہ اپنی کمپنیوں کے زیادہ فائدہ مند ہوجاتے ہیں تاہم مردوں کے مقابلے میں خواتین پر بچوں کی پیدائش کے بعد سب سے نمایاں اثرات مرتب ہوتے ہیں کیونکہ ان کے کام بھی بڑھ جاتے ہیں
بے وفائی سہنے والی عورت کی آخر میں جیت ہوتی ہے: تحقیق
لندن — محبت کے تعلقات میں دھوکہ کھانے والے لوگوں کو اکثر ناکام سمجھا جاتا ہے لیکن ایک نئی تحقیق سے منسلک ماہرین نفسیات اس نتیجے میں پہنچے ہیں کہ جیون ساتھی کی بے وفائی کا دکھ جھیلنے والی عورت کی آخر میں جیت ہوتی ہے کیونکہ وہ مستقبل میں زیادہ پائیدار ازدواجی رشتہ قائم کرتی ہیں۔ جیون ساتھی یا محبوب کی بے وفائی کا تجربہ ایک گہرا دکھ ہوتا ہے لیکن نئے مطالعے سے منسلک ماہرین نفسیات کو مردوں کی بے وفائی کے عورتوں کے مستقبل پر اچھے اثرات ملے ہیں۔ تحقیق بتاتی ہے کہ ایک بے وفا مرد کا عورت کی زندگی سے جانا اس کے فائدے کے لیے ہوتا ہے کیونکہ اس طرح وہ مستقبل میں اپنے لیے ایک با وفا جیون ساتھی تلاش کرنے میں کامیاب رہتی ہے۔ امریکہ کی بنگھمپٹن یونیورسٹی سے وابستہ پروفیسر کریگ مورث نے کہا کہ ہمارا مقالہ اس عورت پر ہے جو کسی دوسری عورت کی وجہ سے اپنے ساتھی سے محروم ہو جاتی ہے۔ وہ پرانے رشتے سے ملنے والے غم اور فریب کو ایک عرصے تک بھول نہیں پاتی ہے لیکن یہی جذباتی آزمائش کا دور اسے دانائی کا سبق سکھا کر جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے لیے ایک بہتر جیون ساتھی کا انتخاب کرنے کے قابل ہو جاتی ہے۔ اس طرح وہ طویل مدتی پیار کے رشتے میں 'فاتح' بن کر ابھرتی ہے۔ اس کے برعکس دوسری عورت اب ایک ایسے رشتے میں ہے جو پرانے رشتے میں فریب کا مظاہرہ کرچکا ہے اور اس میں دوبارہ بے وفائی کے امکانات ہیں لہذا یہ کہا جا سکتا ہے اس عورت کی طویل مدتی رشتے میں 'ہار' ہوتی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اگر جیون ساتھی تلاش کرنا اور رشتوں کو نبھانا ہمارا ارتقائی رویہ ہے تو اس بات میں بھی منطق نظر آتی ہے کہ وہاں تعلقات ٹوٹنے پر غم سے ابھرنے کے لیے برداشت کا کوئی ارتقائی میکانزم اور ردعمل ہو گا۔ زیر نظر مطالعے کے لیے بنگھمپٹن یونیورسٹی اور یونیورسٹی کالج لندن کے تحقیق کاروں نے ایک گمنام آن لائن جائزہ لیا ہے جس میں دنیا بھر سے 96 ممالک سے تعلق رکھنے والے مختلف ثقافتوں اور تمام عمر کے 5,705 افراد نے حصہ لیا تھا۔ محققین نے اپنے جائزے میں دیکھا کہ شرکاء تعلقات ٹوٹنے کے دوران، اس کے بعد اور اس سے پہلے کتنے خوش تھے۔ جمع کئے جانے والے اعدادوشمار کے نتائج سے پتا چلا کہ عورتوں کے درمیان پیار کے رشتے میں مقابلے کا ناصرف ان کی ذاتی شخصیت کی ترقی پر اثر ہوتا ہے بلکہ یہ ارتقائی نقطہ نظر سے بھی ان کے لیے فائدہ مند ثابت ہوا تھا۔ کیونکہ اس بے وفائی کے نتیجے میں عورتوں نے جو سبق سیکھا تھا اس کے مطابق عورتوں نے بتایا کہ وہ اب ایک مرد میں بے وفائی، فریب اور بددیانیتی جیسی منفی خصوصیات کے بارے میں بہتر نشاندہی کر سکتی ہیں۔ یہ تحقیق' آکسفورڈ ہینڈ بک آف وومن اینڈ کمپیٹیشن' نامی جریدہ میں شائع ہوئی ہے۔ محقق کریگ مورث نے کہا کہ نتائج سے پتا چلا کہ عورتیں واضح طور پر رشتہ ٹوٹنے کے بعد مردوں کے مقابلے میں زیادہ بہتر حالت میں تھیں۔ انھوں نے کہا کہ عورتوں نے اپنی بے وفائی کے تجربے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ماضی کا صیغہ استعمال کیا جبکہ ان کے مقابلے میں اکثر مردوں کی طرف سے پرانے تجربے کو بیان کرتے ہوئے حال کا صیغہ استعمال کیا گیا۔
پاکستانی خاتون نے نیلسن منڈیلا ایوارڈ 2016 جیت لیا
خواتین کے حقوق کی ایک سرگرم پاکستانی کارکن تبسم عدنان ایک اور معتبر بین الاقوامی ایوارڈ کی حقدار قرار پائی ہیں۔ انھیں انفرادی حیثیت میں اپنی خدمات کے اعتراف کے طور پر نیلسن مینڈیلا۔گراسا مشل انوویشن ایوارڈ 2016ء سے نوازا گیا۔ ایوارڈ دینے کی یہ تقریب کولمبیا کے شہر بوگوٹا میں جمعرات کو منعقد کی گئی تھی۔ تبسم عدنان گزشتہ سال بین الاقوامی باہمت خواتین کے لیے امریکی وزیر خارجہ کا ایوارڈ بھی حاصل کر چکی ہیں۔
وہ 6 چیزیں جو آپ کے پیٹ کی چربی پگھلنے نہیں دیتیں
لندن: آپ اپنے وزن کو کم کرنے کے لئے فی ورزش کے ساتھ ھانے پینے میں احتیاط کرتے ہوں گے لیکن اگر پھر بھی پیٹ کی چربی کم نہیں ہورہی تو اس کی 6وجوہات یہ ہوسکتی ہیں۔ 1۔کم نیند اگر آپ چھ گھنٹے سے کم سوتے ہیں تو پھر وزن ضرور بڑھے گا۔ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جوخواتین پانچ گھنٹے ی اس سے کم سوتی ہیں ان کا وزن12کلو تک بڑھ سکتا ہے۔ 2۔غلط ورزش پیٹ کی چربی کم نہ ہونے کی وجہ غلط ورزش بھی ہے۔ورزش کامقصد حرارے کم کرنا ہے لیکن ر ورزش ایسی نہ ہو جس میں کیلوریز کم ہوں تو وزن بھی کم نہیں ہوتا۔ 3۔بڑھتی عمر آپ کے موٹاپے کی ایک وجہ بڑھتی عمر بھی ہے۔عمر بڑھنے سے میٹابولزم کی رفتار کم ہوجاتی ہے اور وزن زیادہ ہونے لگتا ہے۔ 4۔پراسیسڈ کھانا چپس،کریکرز،بریڈ،مشروبات کے استعمال کی وجہ سے وزن بڑھتا ہے لہذا نہیں ترک کردیں۔ 5۔ذہنی تناﺅ وزن اور ذہنی تناﺅ کا گہرا تعلق ہے۔اس کی وجہ سے کولیسٹرول لیول بھی متاثر ہوتا ہے اور وزن بڑھنے لگتا ہے۔ 6۔غیر صحت مند کھانا ایسا کھانا جسمیں غیر ضروری چکنائی موجود ہو اس کے کھانے سے بھی وزن کم نہیں ہوتا اور جسم میں چربی اکٹھی ہوجاتی ہے۔
خواتین قوت سماعت کی حفاظت کے لیے مچھلی کھائیں: تحقیق
لندن— طبی ماہرین نے قوت سماعت کی حفاظت کے لیے ایک آسان نسخہ تجویز کیا ہے کہ خواتین کو بڑھاپے میں قوت سماعت کے نقصان کے خطرے کو کم کرنے کے لیے مچھلی کھانی چاہیے۔ محققین کا کہنا ہے کہ ہفتے میں کم ازکم دوبار مچھلی کھانا اس دائمی مرض کی روک تھام یا اس میں تاخیر کا سبب بن سکتا ہے۔ 'ہارورڈ میڈیکل اسکول' سے منسلک محققین کے مطابق انھوں نے ایک ایسا مضبوط کنکشن دریافت کیا ہے جس سے مچھلی اور اس کے تیل میں موجود اومیگا 3 فیٹی ایسڈ کھانے اور قوت سماعت کو نقصان پہنچنے کے امکان میں کمی کے درمیان تعلق ظاہر ہوا ہے۔ تحقیق کی مصنف ڈاکٹر شیرون کرہین کا کہنا ہے کہ اگرچہ سماعت کی کمی کو اکثر بڑھتی عمر کا ایک ناگزیر نتیجہ سمجھا جاتا ہے لیکن قوت سماعت کا نقصان بہت عام ہے اوراکثر یہ معذوری دائمی مرض کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ محققین نے تجربے میں 65 برس کی خواتین کو شامل کیا جن کی 1991ء سے 2009ء تک ماہرین نے نگرانی کی۔ اس دوران 11,000 خواتین سماعت کے کسی نہ کسی مسئلے سے دوچار ہوئیں۔ ہفتے میں دو یا زائد بار مچھلی کا استعمال کرنے والی خواتین میں سماعت کے نقصا ن کا خطرہ 20 فی صد کم رہا بہ نسبت ایسی خواتین کے جو کبھی ہفتوں، مہینوں یا پھر برسوں میں مچھلی کا استعمال کرتی تھیں۔ 'امریکن جرنل آف کلینکل نیوٹریشن' میں شائع ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ قوت سماعت کے نقصان کے خطرے کو کم کرنے کے لیے کسی بھی قسم کی مچھلی کھانا مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹرکرہین کے بقول، "مچھلی سماعت کی صحت کے لیے کیوں فائدہ مند ہے اورسماعت پر کیسے براہ راست اثرانداز ہوتی ہے؟ اس قدرتی طریقہ کار کے بارے میں ہم لاعلم ہیں۔" لیکن انھوں نے خیال ظاہر کیا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ اس کا تعلق کان کے اندر خون کے بہاؤ سے ہوجسے توانائی کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے اورمچھلی اور اس کے تیل میں موجود اومیگا تھری فیٹی ایسڈ خون کے بہاؤ میں مددگار ہوتا ہے۔ ڈاکٹر کرہین کے مطابق یہ مطالعہ خواتین کی صحت کے لیے خوراک میں مچھلی کے فوائد کی ایک تازہ ترین مثال ہے۔ اس سے قبل کئی تحقیقات میں ظاہر ہوا ہے کہ مچھلی میں موجود حیوانی پروٹین اور اومیگا تھری فیٹی ایسڈ کے استعمال سے دل کے امراض اور الزائمر کا خطرہ کم کیا جاسکتا ہے اسی طرح حاملہ ماؤں کو ضروری غذائی اجزا فراہم کرنے کا اہم ذریعہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جن مچھلیوں میں مرکری کی بلند سطح ظاہر ہوئی ہے ان کا استعمال کم کرنا چاہیے۔ اسی طرح سورڈ فش، ٹونا فش اور باسا مچھلی زیادہ کھانے سے جسم میں زہریلے کیمیکلز جمع ہو سکتے ہیں جن سے انسان کے دل، دماغ اور مدافعتی نظام کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ تاہم محققین کے بقول معقول مقدار میں مچھلی کھانے سے صحت کے فوائد حاصل کئے جاسکتے ہیں۔
حاملہ ماں کی خوراک کے اثرات نسلوں تک منتقل ہوتے ہیں: تحقیق
ایک نئی تحقیق سے وابستہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دوران حمل ماؤں میں غذائیت کی کمی سے نہ صرف ان کےبچےکی صحت متاثر ہو سکتی ہے بلکہ اگلی نسل یعنی پوتے پوتیوں کی صحت کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ 'جرنل سائنس' میں شائع ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ دوران حمل اگر ایک ماں کم خوراک کھاتی ہے یا متوازن غذا نہیں لیتی تو اس کا نتیجہ اولاد کے لیے ذیا بیطس اورموٹاپے کےخطرہ کی صورت میں ظاہرہو سکتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہےکہ ایک حاملہ ماں کی غذائی عادات کی یادداشت آنے والی نسلوں میں منتقل ہوسکتی ہے۔ اگرایک حاملہ عورت دوران حمل ضرورت کےمطابق خوراک نہیں کھاتی ہے تو ممکن ہےکہ پیدا ہونےوالابچہ نہ صرف غذائیت کی کمی کے ساتھ پیدا ہو بلکہ اس کا جسم دنیا میں آنے سے پہلے ہی غذائی قلت کا مقابلہ کرنے کے لیے بھی تیار ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ،بچہ بڑا ہونے پراگرجسم کی ضرورت کے مطابق خوراک حاصل کرتا ہے تواس کا جسم اسے زیادہ خوراک تصور کر لیتا اور اس کا کمزور نظام انہضام خوراک ہضم کرنےکےقابل نہیں ہوتا ہےجس کےنتیجے میں خوراک پورے طور پر ہضم نہیں ہو سکتی ہے۔ جسم بجائے پورا کھانا ہضم کرنےکے اسے چربی کی صورت میں ذخیرہ کرنا شروع کر دیتا ہےجس سے بچے کا میٹا بولک بیماریاں میں مبتلا ہونےکے امکان میں اضافہ ہوتا ہے۔ خاص طور پرذیا بیطس ٹائپ ٹو بیماری کا خطرہ اس کے لیے شدید ہو جاتا ہے۔
باپردہ مسلمان خواتین کا مقابلہ ِحسن
واشنگٹن — کیا آپ نے کبھی مسلمان خواتین کا ایسا مقابلہ ِ حسن دیکھا ہے جس میں شامل تمام خواتین نے سر پر حجاب لیا ہو؟ ۔۔۔ اگر نہیں، تو آپ کو جان کر یہ حیرت ہوگی کہ انڈونیشیا میں مسلمان خواتین کا ایسا ہی مقابلہ ِ حسن ’مس مسلمہ 2013‘ کے نام سے منعقد کیا گیا، جس میں تمام خواتین سر پر حجاب لیے نظر آئیں۔ اس مقابلہ ِحسن کو اہل ِاسلام کی جانب سے ’مس ورلڈ‘ کا جواب قرار دیا جا رہا ہے اور اس میں صرف ایسی مسلمان خواتین کو شرکت کی اجازت دی جاتی ہے جو حجاب کرتی ہوں۔ اس مقابلے میں بہت سے مسلمان ممالک کی خواتین نے شرکت کی جس میں ایران اور نائیجیریا جیسے ممالک بھی شامل ہیں۔ اس مقابلے کے انعقاد کا آغاز ایکا شانتی نے کیا، جو ایک ٹی وی اینکر تھیں اور جنہیں حجاب نہ اتارنے کی پاداش میں ٹی وی کی ملازمت سے برطرف کر دیا گیا تھا۔ ایکا شانتی کہتی ہیں کہ جکارتہ میں منعقد کیے جانے والا یہ مقابلہ ِ حسن، بالی میں منعقد کیے جانے والے متنازع مس عالمی مقابلے کی وجہ سے کیا گیا ہے۔ ایکا شانتی کے مطابق حجاب میں ملبوس مسلمان خواتین کا یہ مقابلہ ِ حسن روایتی مقابلہ ِ حسن سے ہٹ کر ہے جس میں خواتین باحجاب ہو کر شرکت کرتی ہیں۔ ’مس مسلمہ‘ مقابلے میں صرف وہی خواتین شرکت کر سکتی ہیں جو روز مرہ زندگی میں بھی حجاب کی پابندی کرتی ہیں۔ مقابلے میں شریک خواتین کے درمیان قرآنی آیات پڑھنے اور اسلام اور جدید دنیا کے حوالے سے ان کی رائے بھی دریافت کی گئی۔ دوسری طرف 28 ستمبر کو جکارتہ کے مضافاتی علاقے میں خواتین کے 63 ویں عالمی مقابلہ ِ حسن کے اعلان پر انڈونیشیا میں بعض عناصر کی جانب سے شدید رد ِ عمل سامنے آیا تھا اور اس حوالے سے مظاہرے بھی کیے گئے۔ جس کے بعد عالمی مقابلہ ِ حسن کے منتظمین نے وعدہ کیا کہ مقابلے میں شریک خواتین کو مختصر لباس پہننے کی اجازت نہیں ہوگی اور مقابلے میں شریک خواتین مختصر لباس کی بجائے تہمد پہنیں گی۔ انڈونیشی حکومت کی مداخلت کے بعد یہ مقابلہ جکارتہ کی بجائے ہندو اکثریت والے جزیرے اور انڈونیشیا کے صوبے بالی میں منعقد کیا جائے گا، جہاں 8 ستمبر کو عالمی مقابلہ ِ حسن کو باقاعدہ آغاز کیا گیا تھا۔ برطانوی، امریکی اور آسٹریلیا کے سفارتخانوں نے تنبیہہ جاری کی ہے کہ شدت پسندوں کی جانب سے خواتین کے عالمی مقابلہ ِ حسن پر حملے کا خدشہ ہے۔ دوسری جانب ’مس مسلمہ‘ کے مقابلے میں رواں برس ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ دیگر ممالک کی مسلمان خواتین کو بھی اس میں شرکت کی دعوت دی گئی۔ 21 سالہ اوبے بی ای اجی بولا، جن کا تعلق نائجیریا سے ہے اس مقابلے میں اول آئیں۔ انہیں دو ہزار ڈالر کے ساتھ ساتھ مکہ اور بھارت جانے کا ٹکٹ بھی دیا گیا۔
بال خراب ہونے کی ایک بڑی وجہ نل کا پانی ہے: ماہرین
ماہرین کا کہنا ہے کہ سر کے بالوں کی خرابیوں کی اصل وجہ گھر کے نلکوں سے آنے والا پانی ہے جس میں نل کے جمع شدہ پیتل کی ایک بڑی مقدار شامل ہوجاتی ہے جو بالوں کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔ 'انٹرنشنل جرنل کاسمیٹکس اینڈ سائنس' میں شائع ہونے والی تحقیق میں ماہرین نے اس بات کا دعویٰ کیا ہے کہ بالوں کی جڑوں کا کمزور ہونا، بالوں کے سِروں کا دو منہ ہونا اور بے جان نظر آنے کی شکایات کا اصل سبب نل کا پانی ہے۔ یہ تحقیق بین الاقوامی کمپنی ' پروکٹر اینڈ گیمبل' کی ایک سائنسدان جینیفر مارش کی نگرانی میں ہوئی جن کا کہنا ہے کہ ، ’نل کے پانی میں قدرتی طور پر دھاتیں شامل ہوتی ہیں لیکن اس پانی میں وہ جمع شدہ دھاتیں بھی شامل ہو جاتی ہیں جو ہماری پائپ لائنوں میں اور گھر کی گرم پانی کی ٹنکی میں بہت عرصے سے جمع ہو رہی ہوتی ہیں۔ جب یہ پانی سر دھونے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تو یہ دھاتیں آہستہ آہستہ ہمارے بالوں میں جمتی چلی جاتی ہیں جو بالوں کو بتدریج متاثر کرتی رہتی ہیں جس سے بال بکھرے بکھرے نظر آتے ہیں۔‘ ڈاکٹر مارش کہتی ہیں کہ اچھے سے اچھے کنڈیشنرز اور آئل کا استعمال بالوں کی اس خرابی کو دور نہیں کر سکتا ہے بلکہ جب بالوں کی بہتر نگہداشت کے لیے سیلون کا رخ کیا جاتا ہے تو اس سے ڈرائی ہیئر رکھنے والوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نل سے آنے والے پانی میں اگرچہ بہت بھاری مقدار میں پیتل شامل نہیں ہوتا لیکن ہمارے بال اسے ایک اسفنج کی طرح جذب کرتے رہتے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بالوں پر پیتل کی ایک تہہ سی جم جاتی ہے اور پھر جب ہیئر کلر کے ستعمال سے متاثرہ بالوں پر پیتل اثر انداز ہوتا ہے تو اس سے ایک کیمیائی ری ایکشن پیدا ہوتا ہے۔ ڈاکٹر مارش کے مطابق، ''جس طرح سورج کی مضر کرنوں کے اثرات دھوپ میں زیادہ دیر رہنے والے شخص کی جلد پر ظاہر ہونے لگتے ہیں اسی طرح بالوں میں جمع ہونے والی یہ دھاتیں آہستہ آہستہ بالوں کو متاثر کرتی ہیں۔ نتیجتاً بال کمزورہوجاتے ہیں اوربرش کرنے، سر دھونے یا ہیئر ڈرائی کرنے پر ٹوٹنے لگتے ہیں بلکہ ان کی چمک بھی ماند پڑ جاتی ہے اور ایسے بکھرے بکھرے بالوں کو بنانے میں کافی دشواری پیش آتی ہے۔'' ڈاکٹر مارش اور ان کی ٹیم نے اس تحقیق کے لیے دنیا بھر سے 450 خواتین کا انتخاب کیا۔ تجزیئے کے دوران ان خواتین کے بالوں میں پیتل کی مختلف مقدارمیں موجودگی کا ثبوت ملا۔ زیادہ تر خواتین کے بالوں کے ایک ملین مالیکیول میں 20 سے 200 تک پیتل کے ذرّے کی موجودگی پائی گئی جبکہ کچھ خواتین کے سر کے بالوں میں یہ شرح 500 پیتل کے ذرّوں کے برابر تھی. وہ کہتی ہیں کہ بالوں میں جمع ہونے والی دھاتیں بالوں کی اوپری سطح کو متاثر کرتی ہیںجو دن بدن بالوں کو روکھا اور بے روبق بناتے ہیں۔
امریکہ میں ٪40 گھروں کی کفالت خواتین کے سپرد، تحقیق
واشنگٹن — امریکہ میں تحقیقی ادارے ’پیو ریسرچ سنٹر‘ کی جانب سے بدھ کو جاری ہونے والے ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ میں پانچ دہائیاں قبل گیارہ فیصد مائیں اپنے گھر اور بچوں کی کفالت کی ذمہ دار تھیں۔ لیکن وقت بدلنے اور زمانہ بدلنے سے یہ رجحان بھی بدل گیا۔ ’سنگل مدرز‘ ان ماؤں کو کہا جاتا ہے جو خود اپنے بچوں کی پرورش اور کفالت کی ذمہ دار ہیں۔ پیو ریسرچ سنٹر کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ میں سنگل مدرز کی کل تعداد میں سے دو تہائی مائیں اپنے بچوں کی کفالت کر رہی ہیں۔ ان اعداد و شمار کے مطابق ایسی شادی شدہ خواتین کی تعداد جو اپنے شوہروں سے زیادہ کماتی ہیں، امریکہ میں کمانے والی ماؤں کا ایک تہائی بنتی ہیں۔ تحقیق دان کہتے ہیں کہ اس وقت امریکہ میں ایسی خواتین کی تعداد بھی مردوں سے زیادہ ہے جن کے پاس بیچلرز ڈگری ہے۔
مردوں کی نسبت خواتین کی طویل العمری کا رازدریافت
ٹوکیو …جا پانی سائنسدانوں نے مردوں کی نسبت خواتین کی طویل العمری کا رازدریافت کرلیا ۔ جاپان کی ٹوکیو میڈیکل اینڈ ڈینٹل یونیورسٹی کے سائنسدانوں کے مطابق خواتین کی طویل العمری کا راز ان کے خون میں پوشید ہ ہے۔ عورتوں کا مدافعتی نظام مردوں کی نسبت عمر گزرنے کے ساتھ آہستہ کمزور ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ وہ مردوں سے اوسطاً زیادہ عمر پاتی ہیں۔ سائنسدانوں نے اپنے طبی مطالعے میں 20 سے 90 سال کی عمر کی خواتین کے خون کے نمونوں پر تحقیق کی اور یہ پایا کہ مرد اور خواتین دونوں کے خون میں موجود سفید خلیے عمر بڑھنے کے ساتھ کم ہونا شروع ہو جاتے ہیں لیکن بعض مدافعتی خلیے جیسے ”ٹی سیل“ اور ”بی سیل“ مردوں میں خواتین کی نسبت زیادہ تیزی سے ختم ہوتے ہیں اسی طرح خون کے سرخ خلیے بھی مردوں میں عمر کے ساتھ جلدی کمزور یا ختم ہو جاتے ہیں لیکن عورتوں کی اکثریت میں یہ عمل سست روی کا شکار رہتا ہے۔