گوجرانوالہ نیوز
پاکستان
آرمی سکول حملے پر القاعدہ ارکان اور طالبان بھی روئے :علی حیدر
ملتان: سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے حال ہی میں بازیاب ہونیوالے صاحبزادے علی حیدر گیلانی نے کہا کہ امریکی فورسز کے جس آپریشن میں مجھے بازیاب کرایا گیا اسکا القاعدہ کو پہلے سے علم تھا اس وقت ہم افغا نستان کے صوبہ گیلان میں تھے اور آپریشن کی ایڈوانس اطلاع ملنے پروہ مجھے پاکستان منتقل کررہے تھے تاہم فورسز نے آپریشن میں مجھے بازیاب کرلیا اور القاعدہ کے دو افراد مارے گئے ،جب امریکی اہلکاروں نے مجھے قابو کیا تو میں نے اپنا تعارف کرایا قبل ازیں وہ تسلیم نہیں کررہے تھے تصدیق پر انہوں نے میرے بندھے ہوئے ہاتھ کھول دئیے اور مجھے تسلی دی کہ اب آپ محفوظ ہیں گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضرب عضب آپریشن کے دو رس نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں،اگرچہ القاعدہ کو بہت نقصان پہنچا ہے تاہم ابھی القاعدہ اس پوزیشن میں ہے کہ پاکستان کیلئے چیلنج بن سکتی ہے ، انہوں نے کہا کہ میرے اغوا سے قبل القاعدہ کے لوگ میرے بھائی عبدالقادر گیلانی اور علی موسیٰ گیلانی کی ریکی کرتے رہے مگر ان کی سکیورٹی مضبوط ہونے کی وجہ سے انہیں اغوا نہ کرسکے اور ہلکی سکیورٹی پر مجھے اغوا کرلیا گیا ، اغوا کرنے والے پانچ تھے ، دو کبیروالا میں اتر گئے اور تین فیصل آباد لے گئے اور پنجابی بول رہے تھے ۔ایک دن اخبار میں صوبائی وزیر رانا ثناء اللہ کا اپنے بارے میں بیان پڑھا کہ میری ( علی حیدر گیلانی ) کی وزیرستان میں نشاندہی ہو گئی ہے میں نے اغوا کاروں سے پوچھا کہ ہم کہا ں ہیں تو انہوں نے بتایا ہم فیصل آباد میں بلکہ رانا ثناء اللہ کے حلقہ انتخاب میں ہی ہیں جس پر میں بھی اور اغوا کار بھی ہنس پڑے ۔ علی حیدر گیلانی نے بتایاکہ سانحہ آرمی پبلک سکول میں اس قدر زیادہ تعداد میں بچوں کی شہادت پر القاعدہ والے اور افغان طالبان بھی روئے تھے اور کہتے تھے یہ ظلم ہے ، میرے اغوا کا ر کہتے تھے اس سانحہ میں فضل اللہ ملوث ہے ، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میرے ساتھ القاعدہ اور طالبان کا رویہ بہت اچھا تھا بعض اوقات میں ان سے الجھ بھی پڑتا تھا میرے بدلے وہ رحیم الزاہواری کے بیٹے او ربیٹیوں کو چھڑوانا چاہتے تھے ۔ القاعدہ کے پاس دولت کی کمی نہیں تاہم افغان طالبان کے پاس اس قدر رقم نہیں ہے ۔ وہ مجھے سائیں کہہ کر بلاتے اور کرکٹ بھی کھیلی اور عزت کرتے ، خوراک اور معیاری ادویات کی کمی نہیں تھی۔
آف شور کمپنی اکاﺅنٹنٹ کے کہنے پر بنائی ،عمران خان نے اعتراف کر لیا
لندن: پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے تسلیم کیا ہے کہ میں نے 1983میں آف شور کمپنی بنائی اوراس زمانے میں کاونٹی کرکٹ کے پیسے سے لندن میں فلیٹ خریدا ۔ان کا کہنا ہے کہ میں نے آف شور کمپنی اپنے اکاونٹنٹ کے کہنے پر بنائی تاکہ ٹیکس بچا یا جا سکے ۔لندن میں میڈ یا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ میں 1983میں کاﺅنٹی کر کٹ کھیل کر 35فیصد ٹیکس برطانوی حکومت کو دیتا تھا اور ان پیسوں سے لندن میں آف شور کمپنی بنا کر فلیٹ خریدا ۔انہوں نے کہا کہ میں برطانیہ کا شہری نہیںتھا اس لیے ٹیکس سے بچنے کے لیے آف شور کمپنی بنائی جو قانونی ہے ۔ان کا کہنا تھاکہ لندن سے فلیٹ بیچ کر سارا پیسا قانونی طریقے سے پاکستان لے کر آیا جبکہ دوسری جانب شریف خاندان نے پاکستان میں کرپشن سے پیسہ بنا یا اور اس سے آف شور کمپنی بنائی ۔انہوں نے کہا کہ میں وہ پاکستان جس کے پیسوں سے پاکستان چلتا ہے جبکہ نواز شریف نے اپنی جائیداد بیرون ملک منتقل کی ہوئی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ میں اپنی جائیداد کی تفصیلات بتا چکا ہوں ،نواز شریف بتائیں لندن میں جائیداد خریدنے کے پیسے کہا ں سے آئے ؟۔ عمران خان نے کہا کہ اوورسیز پاکستانی اربوں روپے پاکستان بھیجتے ہیں ،نواز شریف کے بیٹے پاکستان سے پیسے بیرون ملک لے جاتے ہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ جمہوریت میں سوال پوچھنا اپوزیشن کا حق ہے ،متحدہ اپوزیشن کے ساتھ مل کر لائحہ عمل طے کریں گے ۔
حاجیوں کیلئے 9 کروڑ کے موبائل فون صرف کاغذوں میں خریدے گئے
اسلام آباد: پبلک اکائونٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا ہے کہ سابق وزیر مذہبی امور خورشید شاہ کے حکم سے 2012 میں حاجیوں کیلئے 9 کروڑ مالیت کے موبائل فون خلاف قواعد خریدے گئے ، یہ رقم حاجیوں کی فلاح وبہبود فنڈز سے لی گئی، آڈٹ حکام نے کہا کہ گزشتہ چار سالوں میں تحقیقات کی روشنی میں حاجیوں کو موبائل فون فراہم کرنے کی تصدیق نہیں ہوسکی ، اجلاس قائم مقام چیئر مین نوید قمر کی زیرصدارت ہوا ،جبکہ سکینڈل کا ذکر ہونے پر اپوزیشن لیڈ ر خورشید شاہ اجلاس کی صدارت چھوڑ کر اپنے دفتر چلے گئے ، ایک اطلاع کے مطابق وہ اجلاس میں آئے ہی نہیں ، کمیٹی کو آڈٹ حکام نے بتایا کہ وزارت مذہبی امور نے پیپرا رولز کی خلاف ورزی اور بغیر ٹینڈر حاجیوں کے لئے ایک کمپنی سے 90ہزار موبائل فون سیٹ خریدے ، حج پالیسی کا اعلان اپریل 2012 میں ہو ا جبکہ پانچ ماہ بعد موبائل خریدے گئے ۔ وزارت مذہبی امور کے حکام نے بتایا کہ حاجیوں کو کمیونیکیشن کے لئے موبائل دیئے جاتے ہیں جس پر رکن کمیٹی شیخ روحیل اصغر نے استفسار کیا کہ اس وقت کون تھے جس پر حکام نے بتایا کہ اس وقت سید خورشید شاہ سربراہ تھے ۔ سیکرٹری مذہبی امور سہیل عامر نے بتایا کہ خورشید شاہ کی منظوری سے موبائل خریدے گئے تھے ،انہوں نے بدعنوانی کی ذمہ داری خورشید شاہ پر عائد کی ۔ قائم مقام چیئرمین نے کہاکہ معاملے کی انکوائری ہونی چاہئے ۔رکن کمیٹی شیخ رشید نے کہا نیب یا ایف آئی اے کو یہ معاملہ بھجوا دیا جائے ۔ رکن کمیٹی ڈاکٹر عذرا ،مسلم لیگ ن کے ممبران شیخ روحیل اصغر ، صاحبزادہ نذیر سلطان ، رمیش کمار اور جے یو آئی کی ممبر شاہدہ اختر علی کی مخالفت پر سید خورشید شاہ کیخلاف تحقیقات نیب کے حوالے نہ کی جاسکیں ، تاہم تحقیقات کے لئے دو رکنی کمیٹی تشکیل دیدی گئی، آڈٹ حکام نے بتایا کہ متروکہ وقف املاک بورڈ میں ایک ارب تیس کروڑ روپے کی غیر مصدقہ ادائیگیوں کی کیش بک پر سیکرٹری بورڈ کے دستخط نہیں تھے اور نہ ہی کسی دوسرے ذمہ دار افسر کے دستخط تھے ۔ کمیٹی کو چیئرمین متروکہ وقف املاک صدیق الفارو ق نے بتایا کہ ہمارے پاس انکوائریاں زیادہ ہیں او ر افسران کی تعداد کم ، تھوڑی سی مہلت دی جائے جو بھی قانون کے خلاف کام ہوا ہے کارروائی کی جائے گی ۔کمیٹی نے معاملے کو موخر کر دیا۔ پی اے سی اجلاس میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے بلوچستان میں سیلاب زدگان کیلئے دو ارب روپے امداد کا اعلان کیا تھا تاہم چار سال بعد سیلاب زدگان کو ایک پائی بھی جاری نہ ہوسکی ،اجلاس کو بتایا گیا کہ بیت المال نے حج دو ہزار بارہ میں ڈیڑھ کروڑ روپے وزارت کو واپس ہی نہیں کئے ،اجلاس کو بتایا گیا کہ متروکہ وقف املاک بورڈنے ایک ارب اکتیس کروڑ روپے کی ادائیگیوں میں بھاری مالی بدعنوانیاں کی ہیں۔ پی اے سی نے ہدایت کی کہ اس کرپشن سکینڈل کی تحقیقات کیں جائیں اور لوٹی گئی قومی دولت واپس کی جائے ،اجلاس کو بتایا گیا کہ گیلانی دور حکومت میں متروکہ وقف املاک میں سینکڑوں افراد کو غیر قانونی بھرتی کیا گیا اور سات کروڑ روپے خرچ کئے گئے تھے متروکہ وقف املاک میں باسٹھ کروڑروپے کی سرمایہ کاری میں بھاری کرپشن کی گئی ،بورڈ کے چیئرمین صدیق الفاروق نے بتایا کہ اصل رقم واپس مل گئی ہے جبکہ باقی دو ارب 97 کروڑ وصول کرنے ہیں اور یہ معاملہ اب عدالت میں ہے صدیق الفاروق نے معاملہ عدالت کے باہر مخالف فریق سے باہمی امور کے تحت حل کرنے کا مطالبہ کیا جس کو مسترد کردیا گیا اور نیب کو ہدایت کی کہ ان گھپلوں کی تحقیقات جلد مکمل کرے ، فیصل آباد میں کمرشل پلازہ کی تعمیر میں متروکہ وقف املاک بورڈ کے افسران نے دو کروڑ کی کرپشن کی تھی ،پی اے سی نے ذمہ دار کرپٹ افسران کی نشاندہی کی ہدایت کی ۔
معیار تعلیم کیلئے بھرپورکام کرنے کی ضرورت ہے ،ممنون حسین
اسلام آباد: صدر مملکت نے یہ بات قائداعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اشرف اور کامسیٹس انسٹیٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ریکٹر ڈاکٹر سید محمد جنید زیدی سے بات چیت کرتے ہوئے کہی جنہوں نے بدھ کو ان سے ایوان صدر میں علیحدہ علیحدہ ملاقات کی۔ صدر مملکت نے کہا قائداعظم یونیورسٹی ملک کا ایک شاندار تعلیمی ادارہ ہے جسے برقرار رکھنے اور اس کی کارکردگی میں مزید بہتری کیلئے مسلسل کام کرنے کی ضرورت ہے ۔کامسیٹس انسٹیٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تعلیم کے شعبے میں خدمات کی تعریف کی اور کہا کہ اس سلسلے میں ادارے کے ساتھ بھرپور تعاون کیا جائے گا۔ بعدازاں سرجن جنرل انٹرنیشنل کانفرنس کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت ممنون حسین کا کہنا تھا قدرتی آفات اور حادثات سے نمٹنے والے متعلقہ اداروں کے ذمہ داروں اور کارکنوں کو جدید تربیت کی ضرورت ہے تاکہ ان سے بہتر طریقے سے نمٹا جاسکے ۔کانفرنس کا اہتمام آرمی میڈیکل کالج اور سرجن جنرل پاکستان نے کیا تھا۔صدر مملکت نے کہا ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اورنیشنل انسٹیٹیوٹ آف ڈیزاسٹر مینجمنٹ جیسے اداروں کا چونکہ اس طرح کی صورت حال سے زیادہ واسطہ پڑتا ہے اور قدرتی حادثات سے نمٹنے کی پہلی ذمہ داری بھی ان ہی کی ہوتی ہے اس لئے ضروری ہے کہ ان سے وابستہ لوگوں کیلئے تربیتی پروگرام منعقد کئے جائیں۔ صدر نے اس موقع پرآرمی میڈیکل کور کے اہلکاروں کی خدمات کی تعریف کی۔
دوران ہجرت اموات روکنے کیلئے یورپ قانونی راستہ بنائے ، اقوا م متحدہ
نیو یارک : اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ ہجرت کے دوران مہاجرین کی اموات روکنے کیلئے یورپ کو قانونی راستہ بنانا چاہیے ، مہاجرین یورپی ریاستوں کیلئے ایک بہت بڑا چیلنج بن چکے ہیں، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہجرت کوئی علاقائی نہیں بلکہ ایک عالمی مسئلہ ہے ، اقوام متحدہ کے نائب سیکریٹری جنرل نے ایک انٹرویو میں کہا کہ شام کی صورتحال کے باعث اس کے پڑوسی ممالک ترکی، لبنان اور اردن کو مدد کی سخت ضرورت ہے ، ان ممالک کے ساتھ اظہار یکجہتی بھی لازمی ہے ، انہوں نے کہا کہ میں خود دو مرتبہ لبنان جا چکا ہوں، اس وقت وہاں بسنے والا ہر تیسرا شخص شامی باشندہ ہے ، لبنان میں اسکولوں، اسپتالوں اور روزگار کی منڈی پر شدید دبائو ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت دنیا بھر میں کئی ملین بے گھر افراد موجود ہیں، پناہ گزینوں اور تارکین وطن کی اکثریت ان ملکوں میں مقیم ہے جو خود ترقی پذیر ہیں، بحیرہ روم میں ہلاکتوں کے سلسلے کو روکنا اشد ضروری ہے ، توقع ہے کہ ہجرت کے معاملے پر یورپی یونین مشترکہ اور قابل عمل لائحہ عمل وضع کرے گی۔
اقتدار کے بھوکے سیاستدان کامیاب نہیں ہونگے : نواز شریف
اسلام آباد: وزیراعظم نوازشریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پاناما لیکس کی تحقیقات سے متعلق سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو بھیجے گئے ضابطہ کار کی منظوری دے دی گئی ۔ وفاقی کابینہ کا کہنا ہے کہ یہ ضابطہ کار حتمی ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی،جبکہ وزیر اعظم نواز شریف نے کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اقتدار کے بھوکے سیاستدان کامیاب نہیں ہونگے ، آئی سی آئی جے نے ہماری بے گناہی ثابت کر دی، ماضی کے دیگر چیلنجز کی طرح پاناما لیکس سے بھی سرخرو ہونگے ۔ انہوں نے کہا سیاسی مخالفین ملک کو ترقی کی طرف تیزی سے جاتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتے اسی لئے روڑے اٹکارہے ہیں،2018 میں مخالفین کی سیاست ختم ہو جائے گی۔کابینہ نے وزیراعظم پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انکے حق میں قرارداد منظور کی۔ اجلاس کے دوران وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ملک میں جاری ترقیاتی منصوبوں ، توانائی بحران سے نمٹنے کے لئے کئے گئے اقدامات اور آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاری سے متعلق امور پر تفصیلی بریفنگ دی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ آئندہ مالی سال کے لیے ٹیکس آمدنی کا ہدف 36 سو ارب رکھنے کی تجویز ہے ، بجٹ میں 100 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے کی تجویز بھی ہے ۔ یہ ٹیکس مختلف قسم کی ٹیکس چھوٹ ختم ہونے پر عائد ہوں گے جب کہ مہنگائی کی شرح کو پانچ فیصد تک رکھنے اور مالیاتی خسارہ 4.3 فیصد تک لایا جائے گا۔ چینی کونسل نے ساڑھے چار ارب ڈالر کی منظوری دے دی ہے جس سے سکھر ملتان موٹروے اور حویلیاں تھاکوٹ موٹروے تعمیر کی جائے گی۔اجلاس میں پاناما لیکس کے لیے چیف جسٹس کو لکھے گئے خط میں تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے اس لیے اس ضابطہ کار میں تبدیلی کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔اجلاس کے دوران وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے کوشاں ہے ، ہم ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت کا نیا معیار قائم کررہے ہیں، گوادر ترقی کا گڑھ ہے ،1999کے بعد کی حکومتیں توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری لانے میں ناکام رہیں لیکن توانائی منصوبوں کے لئے 34 ارب ڈالرکی سرمایہ کاری ہو رہی ہے اور یہ قرض نہیں۔ اس کے علاوہ ہم اپنی مدت میں ہی گیس کی قلت پر بھی قابو پا لیں گے ۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں میں کسی بھی صوبے کو نظر انداز نہ کیا جائے تمام صوبوں میں مساوی ترقیاتی کام کرائے جائیں۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں وفاقی کابینہ کے بیشتر ارکان کی جانب سے پاناما لیکس پر وزیراعظم کے موقف کی تائید کی گئی۔کابینہ ارکان کا کہنا تھا اپوزیشن حکومتی کارکردگی سے گھبرا گئی ہے ، ترقی کے عمل میں رکاوٹ ڈالنے کیلئے پاناما لیکس جس کا وزیراعظم سے براہ راست کوئی تعلق نہیں کو ایشو بنایا جارہا ہے ۔ وفاقی کابینہ نے وزیراعظم محمد نواز شریف پر انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹ کی جانب سے لگائے جانے والے بے بنیاد الزامات کی سخت مذمت کی جنہیں اب خود کنسورشیم نے ایک صحافتی غلطی قرار دیا ہے ، کابینہ نے مطالبہ کیا ہے کہ کنسورشیم اس کے ذمہ داروں کا تعین کر کے ان کے خلاف فوری کارروائی کرے ۔ وفاقی کابینہ نے اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان کے عوام چند مفاد پرست اور ترقی کے دشمن افراد کو اس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ وہ پاکستان کی خوشحالی اور عوامی ترقی کے اس سفر کو سبوتاژ کریں۔ ارکان اسمبلی محسن شاہ نواز رانجھا، ندیم عباس ربیرا اور ملک ابرار احمد سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھاحکومت عام آدمی کا معیار زندگی بہتر بنانے کے لئے ترقیاتی ایجنڈے پر عمل پیرا ہے ۔ وزیراعظم نے کہا ارکان قومی اسمبلی کو عوام سے اپنے وعدوں کی تکمیل میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھنی چاہیے جنہوں نے انہیں منتخب کر کے اپنے اعتماد کا اظہار کیا ہے ۔ وزیراعظم نواز شریف سے چینی شانڈونگ ہائی سپیڈ گروپ کے چیئرمین سن لیانگ کی سربراہی میں وفد نے ایوان وزیراعظم میں ملاقات کی۔ اس موقع پر وزیراعظم نے شانڈونگ گروپ کو پاکستان میں روڈ، ریل، توانائی، آبی ذخائر، پائپ لائنز، ایئر پورٹ اور مالیاتی شعبہ میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ وزیراعظم نے کمپنی کو یقین دلایا کہ اسے سرمایہ کاری منصوبہ کے ضمن میں ہر ممکنہ معاونت فراہم کی جائے گی۔
اسلامی نظریاتی کونسل کے تحت کانفرنس کاغزی کرنسی کی جگہ سونے چاندی کی اشرفیاں لانے کی تجویز
اسلام آباد : اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین مولانامحمدخان شیرانی نے سونے چاندی کی اشرفیاں لانے کی تجویز دیتے ہوئے کہاہے کہ کاغذی کرنسی پر قائم معاشی نظام پائیدار نہیں، دنیا میں سرمایہ دارانہ ، اشتراکی اور اسلامی نظام معیشت ہیں، صرف اسلامی نظام میں ہی انسانیت کی فلاح ہے ۔ یہ تجویز انہوں نے اسلامی نظریاتی کونسل کے زیر اہتمام اسلامی معیشت کی بنیادیں اور دور جدید کی مشکلات کے عنوان سے دو روزہ کانفرنس میں دی ۔ کانفرنس کے خطبہ استقبالیہ میں مولانا شیرانی کا کہنا تھا کہ کاغذی کرنسی کے پیچھے کوئی ٹھوس چیز نہیں ، اس لئے یہ طرز معیشت مضبوط نہیں ، دنیا میں اسلامی نظام معیشت متعارف کرانے کی ضرورت ہے ، اگر اس پر بین الاقوامی سطح پر مباحثہ ہو تو یہ اچھا اقدام ہوگا ۔ کانفرنس میں ماہر اسلامی معاشیات پروفیسر ڈاکٹر عتیق الظفر ، محترمہ پروفیسر ڈاکٹر شہناز غازی، علامہ شبیر حسن میثمی ، ڈاکٹر اعتزاز احمد،پروفیسر زاہد صدیق، ثاقب اکبر ، علامہ عارف واحدی ، مولانا تنویر علوی سمیت دیگر علماء و ماہرین نے شرکت کی۔
اب پاکستان میں بھی گھر بیٹھے ٹیکسی منگوائیے
کراچی: ترقی یافتہ ممالک کی طرح پاکستان میں بھی اب آپ گھر بیٹھے ٹیکسی منگوا سکتے ہیں۔ وہ بھی اس سہولت کے ساتھ کہ کرایہ بھی پہلے سے ہی آپ کو معلوم ہوجاتا ہے۔ یہ ’آن لائن ‘سروس ہے اور ملک میں اسمارٹ فونز کے بڑھتے ہوئے استعمال کے پیش نظر اس سروس کا زیادہ استعمال بھی کیا جارہا ہے۔
پاکستان میں جلسوں اور دھرنوں کا دن
پاکستان میں آج تین بڑے شہروں سے چار مخلتف پارٹیوں نے اپنے جلسے اور دھرنے منعقد کیے ہیں۔ سب سے بڑا جلسہ اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے یومِ تاسیس کا ہو رہا ہے جس میں اب سے کچھ دیر بعد پارٹی کے سربراہ عمران خان خطاب کریں گے۔ یہ جلسہ دارالحکومت کے ایف نائن پارک میں منعقد ہو رہا ہے، اور اس کے لیے ان کی انتظامیہ سے کئی ہفتے تک کشیدگی چلتی رہی، جس کے بعد بالآخر مشروط اجازت مل ہی گئی۔ تحریکِ انصاف نے جلسے کے لیے بھرپور تیاریاں کی ہیں اور پارک میں وسیع سٹیج سجایا گیا ہے اور میوزک کا اہتمام کیا گیا ہے۔ میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق جلسہ گاہ میں 20 ہزاروں کرسیاں لگائی گئی ہیں تاہم پی ٹی آئی کو توقع ہے کہ جلسے میں ایک لاکھ کے قریب لوگ شرکت کریں گے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس جلسے کے ذریعے عمران خان وزیرِ اعظم نواز شریف کے بچوں کے نام پاناما لیکس میں آنے کے بعد ان پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کریں گے۔ انھوں نے پہلے ہی کہہ رکھا ہے کہ اگر بدعنوانی کی روک تھام اور آف شور اکاؤنٹس کی تحقیقات کے مطالبے پورے نہ ہوئے تو وہ نواز شریف خاندان کے لاہور کے قریب جاتی عمرہ میں واقع گھر کا گھیراؤ کریں گے۔ دو روز قبل وزیرِ اعظم نے ٹیلی ویژن پر خطاب میں بدعنوانی کی روک تھام کے لیے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو خط لکھنے کا وعدہ کیا تھا، تاہم پی ٹی آئی سمیت حزبِ اختلاف کی دوسری جماعتوں نے اسے مسترد کر دیا ہے۔ عمران خان نے گذشتہ روز کہا تھا کہ سب سے پہلے نواز شریف اور ان کے خاندان کا احتساب ہونا چاہیے۔ اس سے قبل عمران خان نے ڈی چوک پر جلسہ منعقد کرنے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن اس کی اجازت نہیں ملی۔ تحریکِ انصاف کا جلسہ پانچ بجے شروع ہونا تھا تاہم عمران خان کے سات بجے کے بعد جلسہ گاہ پہنچنے کی وجہ سے جلسہ تاخیر کا شکار ہو گیا ہے۔ دوسری طرف کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ نے اپنے لاپتہ کارکنوں کی بازیابی کے لیے وزیر اعلیٰ ہاؤس تک مارچ کیا۔ کراچی میں ہی پاک سر زمین پارٹی بھی اپنے سربراہ مصطفیٰ کمال کی قیادت میں آج پہلا بڑا جلسہ باغِ جناح میں کر رہی ہے۔ اُدھر لاہور میں جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق نے ایک جلسے سے خطاب کیا اور وزیراعظم نوازشریف پر پاناما لیکس کے تناظر میں تنقید کی۔
کمیشن کی شرائط سے متعلق عمران خان غلط فہمیاں پھیلا کر قوم کو گمراہ کررہے ہیں :پرویز رشید
اسلام آباد : وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے کہا ہے کہ عمران خان کمیشن کی شرائط کار سے متعلق غلط فہمیاں پھیلا کر اور غلط مفروضوں کی بنا پر قوم کو گمراہ کر رہے ہیں ۔میڈ یا رپورٹس کے مطابق ان کا کہنا ہے کمیشن کے پاس پاناما لیکس سے متعلق جائزے کے لیے مکمل اختیار ہے ،کمیشن کی شرائط کار میں ٹیکس اور اسٹیٹ بینک کے قوانین شامل ہیں جس سے کمیشن منی لانڈرنگ اور ٹیکس چوری کی تحقیقات کر سکے گا۔انہوں نے کا کہ کمیشن غیر قانونی طریقے سے دولت جمع کرنے کی تحقیقات کا بھی مجاز ہو گا ۔
ایوان صدر میں ملازمین کی کل تعداد 823ہے: ترجمان
اسلام آباد : ایوان صدر کے ترجمان نے ان اطلاعات کو بالکل غلط اور بے بنیاد قرار دیا ہے کہ ایوان صدر میں ڈیڑھ ہزار سے زائد ملازمین کام کر رہے ہیں۔ جمعہ کو ایک بیان میں ترجمان نے کہا اس سلسلے میں شائع ہونے والی خبروں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ ترجمان نے بتایا ایوان صدر کے پبلک اور پرسنل سیکرٹریٹ میں ملازمین کی کل تعداد 823 ہے۔ انہوں نے کہا گریڈ 1 سے 4 تک کے ملازمین گنجائش سے کسی قدر زیادہ ہیں لیکن ان کی آمدنی چونکہ انتہائی قلیل ہے ۔