گوجرانوالہ نیوز
تاذہ ترِین
میں نے کوئی غلط کام کیا ہے تو حکومت پکڑے,خدا کے واسطے جمہوریت کو بچائیں: عمران خان
اسلام آباد : پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ اگروزیراعظم نواز شریف نے خود کو احتساب کیلئے پیش نہ کیا تو تحریک انصاف سڑکوں پر ہو گی،وزیراعظم کا کام الزام لگانا نہیں، اگرمیرے محلات اور اثاثے ہیں توحکومت تحقیقات کرائے ، اگر میں نے کوئی غلط کام کیا اور میرے اثاثے غیر قانونی ہیں تو مجھے گرفتار کرے ،جن ٹی او آرز پر وزیراعظم کا احتساب کرنا ہے ان پر میرا بھی کریں،ٹی او آرز میں شوکت خانم کے اکاؤنٹس بھی شامل کئے جائیں، یہ سنہری موقع ہے خدا کے واسطے جمہوریت کو بچائیں۔قومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ جتنی جمہوریت مضبوط ہو گی اتنا ہی ملک مضبوط ہو گا، یورپ بادشاہت سے شروع ہوا اور جمہوریت کی طرف آیا مگر ہم جمہوری سسٹم سے شروع ہوئے اور بادشاہت کے نظام تک چلے گئے ، پاکستان کو مدینہ کی طرح اسلامی ریاست بننا چاہئے ، اپوزیشن تنقید نہ کرے تو پارلیمنٹ کا کوئی جواز نہیں۔ عمران خان نے کہا کہ میں نے سیاست میں آنے کا فیصلہ صرف اس لئے کیاکہ سیاست میں ہونے والی کرپشن کو ختم کر سکوں جس نے پاکستان کی سیاست کو تباہ کر دیا،میں نے ایک غیر مسلم عورت کو مسلمان کر کے اس سے شادی کی اور اسے پاکستان لایا،مگر 1997 میں جب الیکشن ہوئے تو مجھ پر اور میری بیوی پر یہودیوں کا ایجنٹ ہونے کا الزام لگایا گیا، میں نے جان لڑا کرکینسر ہسپتال بنایا اور 1997 میں ہی مجھ پر الزام لگایا گیا کہ میں نے اپنی الیکشن مہم زکوٰۃ اور ہسپتال کے چندے سے چلائی ،1997 میں مجھ پر الزامات لگنے کے بعد مسلم لیگ(ن)کی حکومت آئی تو حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ مجھ پر لگنے والے الزامات کی تحقیقات کرتی مگر ایسا نہیں ہوا، اس کے بعد 2011 میں ایسے الزامات پھر لگنا شروع ہو گئے ، مگر خدا کا شکر ہے کہ کوئی بھی الزام سچ ثابت نہ ہو سکا اور تیسری بار پاناما لیکس کے بعد حکومت کے 4 نمائندے ٹی وی پر بیٹھ کر شوکت خانم پر الزام تراشی کرتے رہے ، حکومت کوچاہیے تھا کہ تحقیقات تو کرے ، میں نے اپنی والدہ کی تکلیف کو دیکھ کر شوکت خانم ہسپتال بنایا تھا، دنیا میں سب سے مہنگا علاج کینسر کا ہے ، شوکت خانم میں 70فیصد مریضوں کا علاج مفت ہوتا ہے ، میں چیلنج کرتا ہوں کہ کوئی ثابت کرے کہ ترقی یافتہ ممالک کے سرکاری ہسپتالوں میں بھی کینسر کے 70فیصد مریضوں کا علاج مفت ہوتا ہے ، میاں صاحب 30سال حکومت میں رہے مگر ایسا ہسپتال نہیں بنا سکے جس میں ان کا چیک اپ ہو سکے ۔ انہوں نے کہا کہ ساری دنیا میں پاناما لیکس کے بعد بحث ہو رہی ہے کہ آف شور کمپنیوں کی روک تھام کیلئے قانون سازی کی جائے مگریہاں کیچڑ اچھالا جا رہا ہے ۔ عمران خان نے خود پر لگنے والے الزامات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ میرا نام پاناما پیپرز میں نہیں آیا لیکن وزیراعظم کو بھی میری طرح جواب دینا چاہئے تھا، میں نے 1971 سے 1978 تک مختلف کلبز کی جانب سے کاؤنٹی کرکٹ کھیلی ،اسی دوران آسٹریلیا کے کیری پیکرسے 3سالہ معاہدہ ہوا جس سے مجھے جو آمدن ہوئی اس سے میں نے 1983 میں لندن میں فلیٹ خریدا، میں برطانیہ کا شہری نہیں تھا تو میرے اکاؤنٹنٹ نے کہا کہ اگر آپ اپنے نام پر فلیٹ لیں گے تو آپ کو ٹیکس دینا پڑے گا لہذا آف شور کمپنی کے ذریعے فلیٹ خریدیں کیونکہ یہ قانونی ہے ،میں نے اپنی کوئی پراپرٹی نہیں چھپائی اور نہ ہی اپنے بچوں کے نام کی ،میری جتنی بھی پراپرٹی ہے وہ میرے نام ہے ، لندن میں فلیٹ کی فروخت کے بعد ملنے والا سارا پیسہ پاکستان لے کر آیا ۔ میں دس سال پاکستانی کرکٹ ٹیم کا کپتان رہا لیکن مجھ پر کرپشن کا ایک بھی الزام نہیں لگا ۔ 1992 کے ورلڈ کپ میں جتنا انعام مجھے ملا میں نے سارا شوکت خانم کو دے دیا، پنجاب حکومت کی جانب سے مجھے ملنے والے دو فلیٹس اور بھارت کے خلاف سیریز میں مین آف دی سیریز کے طور پر ملنے والی گاڑی بھی میں نے شوکت خانم کو دی، اگر میں چاہتا تو ان پیسوں سے اتفاق فاؤنڈری کی طرز پر فیکٹری اور شوگر ملیں بھی لگا سکتا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے اپنی تقریر میں کہا کہ 1973 میں گلف سٹیل لگانے کیلئے پیسے یو اے ای لے گئے مگر اس وقت کے وزیر خزانہ ڈاکٹر مبشر حسن نے بیان دیا ہے کہ اس وقت منی لانڈرنگ اور پیسے باہر لے جانے کیلئے قانون بہت سخت تھے اور شریف فیملی جو پیسے یو اے ای لے کر گئی اس حوالے سے ہمیں کوئی علم نہیں، وزیراعظم نواز شریف نے جو تقریر کی اگر وہ یورپ کے کسی پارلیمنٹ میں کی گئی ہوتی تو وزیراعظم کو استعفیٰ دینا پڑتا، عمران خان نے کہا کہ مریم نواز وزیراعظم کی ڈیپنڈنٹ تھیں، جس کا مطلب ہے کہ ان کی جائیداد، وزیراعظم کی جائیداد ہے ،مگر نیلسن اور نیسکول کمپنیاں مریم نواز کی ملکیت ہیں، وزیراعظم نے کہا کہ لندن فلیٹس 2005میں خریدے گئے حالانکہ ایک فلیٹ 6جون 1993 ،دو فلیٹس 31جولائی 1995، ایک فلیٹ23جولائی 1996 اور پانچواں فلیٹ29جنوری 2004 میں خریدا گیا، لندن کی ہائی کورٹ کے 1998 کے فیصلے میں پانچ میں سے چار پراپرٹیز شریف خاندان کی تھیں۔ عمران خان نے ایوان میں ان فلیٹس کی رجسٹری اور متعلقہ دستاویزات بھی پیش کیں۔ انہوں نے کہا کہ میری درخواست ہے کہ جلد سے جلد پارلیمانی کمیٹی بیٹھے اور متفقہ ٹی او آرز بنائے تا کہ پاناما لیکس کے حوالے سے وزیراعظم پر لگنے والے الزامات کی تحقیقات ہوسکے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا قرضہ 21ٹریلین ڈالر تک پہنچ گیا ہے ،ریونیو سے زیادہ تو روزانہ کی کرپشن ہے ، حکومت نے ملک کا دیوالیہ نکال دیا ہے ، یہ قرضے کون واپس کرے گا، وزیراعظم کی طرح طوطا مینا کی کہانی چلتی رہی تو ملک ترقی نہیں کر سکتا ۔ وزیراعظم کی تقریر سے سخت مایوسی ہوئی، اگر ہمیں مناسب جواب نہ ملا تو تحریک انصاف جمہوری حق رکھتے ہوئے سڑکوں پر نکلے گی ۔انھوں نے کہا کہ یہ سنہری موقع ہے کہ جمہوریت مضبوط کی جائے ، جمہوریت کا دفاع عوام کر تے ہیں فوج نہیں۔ خدا کے لیے جمہوریت کو بچائیں۔ بعدازاں تحریک انصاف کے چیئرمین نے اپنی آف شور کمپنی اور لندن فلیٹس سے حاصل ہونے والی رقم سمیت شریف خاندان کے لندن فلیٹس کے حوالے سے تمام دستاویزی ثبوت سپیکر ایاز صادق کے حوالے کئے ۔ عمران خان مظفر آباد (بیورو رپورٹ،اے این این) تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ میاں صاحب جتنا پیسہ بنانا تھا بنالیا، اب احتساب کا وقت آگیا ہے ۔ اللہ کی طرف سے نوازشریف کی پکڑہوئی ہے اور وہ اب وزیراعظم نہیں رہ سکتے ۔میاں صاحب!امپائر کی اُنگلی کھڑی ہوگئی،آپ کوپویلین واپس جاناپڑے گا۔ آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ لیڈرفیکٹریاں اوردولت بنانے نہیں آتا۔ انہوں نے کہا کہ اُمیدتھی وزیراعظم پارلیمنٹ میں حقائق بتائیں گے مگرمیاں صاحب نے پارلیمنٹ میں سب کے سامنے جھوٹابیان دیا لیکن اس کے ثبوت بھی ہمارے پاس ہیں۔ 2012 میں مریم نواز نے کہا کہ ان کے اور خاندان کے کوئی اثاثے ملک یا ملک سے باہر نہیں ہیں لیکن انھیں پتہ نہیں تھا کہ اﷲ کی طرف سے پاناما لیکس میں ان کا نام آجائے گا۔پی ٹی آئی نوازشریف کی کرپشن کیخلاف سڑکوں پر آئے گی۔ مولانا فضل الرحمان پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ مولانا ڈیزل نوازشریف کی کرپشن بچانے کے چکر میں ہیں مگر اب انہیں کوئی بھی نہیں بچا سکے گا۔فضل الرحمان کانعرہ ہے رقم بڑھاؤنوازشریف،ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ نوازشریف کاروبارکیلئے بھارت جاتے ہیں کشمیر پر بات نہیں کر سکتے ، وزیراعظم بنا تو بھارت سے کشمیر کے معاملے پر واضح بات کروں گا، دنیا کے ہر فورم پر کشمیریوں کے حقوق کے لئے لڑوں گا اور انھیں انصاف دلاؤں گا۔ انہوں نے کہا کہ بیرسٹر سلطان محمود وزیراعظم بننے کے بعد احتساب کا سخت نظام رائج کریں گے ۔ عمران خان نے آزاد کشمیر کی ترقی کیلئے چار نکاتی ایجنڈا بھی دیا جبکہ جلسے میں خواتین سے بدتمیزی کرنیوالوں کو پھینٹا لگانے کا انتباہ بھی کیا۔ عمران خان آج بھمبرمیں جلسہ عام سے خطاب کرینگے ۔ مظفرآباد جلسہ