گوجرانوالہ نیوز
بزنس
چاقو بنانے کے لیے یورپ کا مالی تعاون
اسلام آباد: یورپی یونین کے مالی تعاون سے صوبہ پنجاب میں کٹلری اور چاقو بنانے کے لیے مشہور وزیرآباد کے کارخانوں کو پالش مشینیں مہیا کی گئی ہیں تاکہ وہ اپنی مصنوعات کا معیار مزید بہتر کرسکیں۔ اسلام آباد میں جاری ایک بیان کے مطابق ان مشینوں سے وزیرآباد کے کارخانے اب اپنی مصنوعات درآمد بھی کرسکیں گے۔ یورپی اتحاد کی مالی معاونت سے اس منصوبے پر اقوام متحدہ کی صعنتی ترقی کا ادارہ یونیڈو عمل درآمد کروا رہا ہے۔ وزیرآباد صدیوں سے کٹلری اور چاقو بنانے میں مہارت کی وجہ سے دنیا بھر میں اپنا ایک مقام رکھتا ہے۔ اسی وجہ سے اسے ’سٹی آف کٹلری‘ بھی کہا جاتا ہے۔ کٹلری اور چاقو تیار کرنے والے تقریبا پانچ سو چھوٹے بڑے یونٹ وزیر آباد کے دس مربع کلومیٹر کے علاقے میں قائم ہیں اور یہاں سے 90 ملین امریکی ڈالرز کی مصنوعات درآمد کی جاتی ہیں۔ وزیرآباد کی مشہور مصنوعات میں خنجر، چاقو، کچن کی چھریاں، باورچی خانے کی برتن شامل ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اس صعنت سے 25 ہزار افراد کا روزگار جڑا ہوا ہے۔ یورپی یونین کے پاکستان میں سفیر جین فرانکویس نے پاکستانی صعنت کاروں کو جی پی ایس پلس سکیم سے بھرپور فائدہ اٹھانے میں تمام قسم کی مدد کی یقین دہانی کروائی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سخت مقابلے کی وجہ سے پاکستانی صعنت کاروں کو جدید ٹیکنالوجی سے کام لینا ہوگا تاکہ امریکہ اور یورپی اتحاد جیسی مارکیٹ کے صارفین کے معیار پر پورا اتر سکیں۔ ماہرین کے مطابق اس صعنت کو آج کل پیداوار میں کمی، جدید ٹیکنالوجی اختیار نا کرنا، غیرموثر انتظامی نظام اور ہنر مند کارکنوں کی کمی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ پالشنگ کے شعبے میں یہ کمزوریاں زیادہ شدت کے ساتھ عیاں ہیں۔ جس کی وجہ اس میں صحت کو درپیش ماحولیاتی خطرات ہیں جو پھپڑوں کے سرطان کا سبب بن رہے ہیں۔ پرانے کارکن اپنے بچوں کو انہی خطرات کی وجہ سے اس جانب راغب نہیں کر رہے ہیں۔ پالش کا مرحلہ سب سے طویل ہوتا ہے جس کے لیے سب سے زیادہ کاریگروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس مرحلے میں مناسب احتیاطی تدابیر نہ ہونے کی وجہ سے سب سے زیادہ تعداد میں کارکن زخمی بھی ہوتے ہیں۔ ابتدا میں دو یونٹس کو تجرباتی بنیادوں پر منتخب کیا گیا جہاں یہ نئی ٹیکنالوجی متارف کروائی گئی تھی جس کے بعد ان یونٹس کی پیدواری صلاحیت میں چھ گنا اضافہ ہوا ہے۔
انوسٹمنٹ کمپنی قائم کرنیکا فیصلہ
اسلام آباد: پاکستان میں تخفیف غربت پروگرام کے تحت انتہائی مستحق لوگوں کی مالی معاونت کے لئے مائیکرو فنانس انوسٹنمٹ کمپنی کے قیام کا سمجھوتہ طے پاگیا۔ جمعرات کو پاکستان، جرمنی اور برطانیہ کے اداروں کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے گئے ۔ وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار اور سیکرٹری اقتصادی امورڈویژن طارق باجوہ بھی تقریب میں موجود تھے ۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ پروگرام کے لئے پاکستان 3 ارب روپے خرچ کرے گا ۔
چھ ماہ کے دوران موبائل فونز کی درآمدات میں 7.9 فیصد اضافہ
اسلام آباد: گزشتہ مالی سال کے مقابلہ میں جاری مالی سال 2015-16ء کی پہلی ششماہی کے دوران موبائل فونز کی درآمدات میں 7.9 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ ادارہ برائے شماریات پاکستان ( پی بی ایس) کے اعدو شمار کے مطابق رواں مالی سال میں جولائی تا دسمبر 2015ء میں مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران موبائل فونز کی ملکی درآمدات کا حجم 37 کروڑ 50 لاکھ 63 ہزار ڈالر تک بڑھ گیا جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ کے مقابلہ میں 7.9 فیصد زائد رہا ہے۔
پھلوں و سبزیوں کی کاشت, ویلیو ایڈیشن سے ہارٹیکلچر کی برآمدات میں اضافہ ہو گا, وزیر تجارت
اسلام آباد : وفاقی وزیر تجارت انجینئر خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہارٹیکلچر ڈیولپمنٹ پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں، پاکستان کے پھل اور سبزیاں دنیا میں اپنے ذائقے اور غذائی اہمیت کی وجہ سے ایک الگ مقام رکھتی ہیں، اس سیکٹر سے چھوٹے کسان وابستہ ہیں جن کی سپورٹ کیلئے حکومت نے پھل اور سبزیوں کی کاشت، پیکنگ، گریڈنگ اور ویلیو ایڈیشن کیلئے متعدد پروگرام شروع کئے ہیں ، جن کی بدولت پاکستان کی ہارٹیکلچر کی برآمدات میں ا ضافہ ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر نے ترکی میں انطالیہ ہارٹیکلچر ایکسپو میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے ترکی کے صدر کی دعوت پر نمائش میں شرکت کی۔ ہارٹیکلچر ایکسپو کے افتتاح کے موقع پر ترکی کے صدر رجب طیب اردآون، ترکی کے وزیر اعظم احمد داود اوگلو ، ترکی کی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور وزراء نے شرکت کی۔نمائش کاا نعقاد ترکی کی وزارت زراعت نے کیا جس میں 40 ممالک نے شرکت کی۔ نمائش میں پاکستان نے بھی ‘‘پاکستان گارڈن ’’کے نام سے اپنا پویلین قائم کیا جس میں پاکستان کی ہارٹیکلچر کے ساتھ ساتھ پاکستان کے ثقافتی رنگوں کی بھی عکاسی کی گئی۔نمائش میں پاکستان کے پھل ، سبزیاں اور پھول حاضرین کی توجہ کا مرکز رہے ، اس میں پرائیویٹ سیکٹر نے بھی بڑھ چڑھ کر شرکت کی۔ نمائش میں ہارٹیکلچر سیکٹر میں استعمال ہونے والی مشینری اور جدید ٹیکنالوجی بھی پیش کی گئی،ایکسپو میں ٹیکنالوجی کے ماحولیاتی اثرات پر پھی تعلیمی سیشن رکھے گئے جن سے حاضرین کی معلومات میں اضافہ ہوا۔وفاقی وزیر نے ترکی صدر اور وزیر اعظم سے نمائش کے دوران ملاقات کی اور انہیں ایکسپو کے کامیاب انعقاد پر مبارکباد دی۔ دونوں ممالک کے مابین تجارتی تعلقات کے فروغ اور تجارتی مذاکرات میں پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔